My MSN

Click OK to add this content

 
Content Preview: rss
-+Talking about یونس صیب
160 days ago
Quote یونس صیب دوست کہوں، بھائی کہوں، استاد کہوں کہ کیا کہوں۔ شاید صرف ایک نام کافی رہے، یونس صیب۔ میرے انتہائی محترم، انتہائی قابل قدر اور انتہائی محنتی دوست، استاد، بھائی یونس صیب ہیں۔ ان سے میرا پہلا تعارف بی سی ایس کی کلاسز شروع ہونے سے پہلے ہوا۔ کیسے ہوا، اس کا مختصر ذکر دوبارہ کر دیتا ہوں۔ بی سی ایس میں میرے پیارے دوست زاہد اقبال نے میرے ساتھ داخلہ لیا۔ ساتھ کیا داخلہ لیا، میرے ہی کہنے پر داخلہ لیا۔ کمپیوٹر کی الف بے سے ہم دونوں ہی واقف تھے اور یہ الف بے محض الف بے ہی تھی۔ میتھ سے ہم دونوں کی پیدائشی نفرت بھی ہمیں ایک دوسرے کے قریب لائی تھی۔ زاہد کا خیال تھا کہ بی سی ایس میں ہی ہے کمپیوٹر یا میتھ، کیوں نہ کمپیوٹر کی بنیاد اور ریاضی کی ابتدا کلاسز شروع ہونے سے قبل ہی کر دی جائے۔ ریاضی کا ذکر بعد میں سہی، پہلے کمپیوٹر کا ذکر۔ زاہد نے بتایا کہ اس کے ایک جاننے والے ہیں طیب شاہ صاحب، انہوں نے کمپیوٹر ٹیچر ریفر کیا ہے۔ ہم دونوں ہی بھاگم بھاگ روانہ ہوئے۔ پتہ چلا کہ وہ یونس صاحب ہیں اور گدائی میں رہتے ہیں۔ گدائی ڈیرہ غازی خان کے جنوب مغرب میں الگ موضع تھا جو اب شہر ...
-+یونس صیب
160 days ago
دوست کہوں، بھائی کہوں، استاد کہوں کہ کیا کہوں۔ شاید صرف ایک نام کافی رہے، یونس صیب۔ میرے انتہائی محترم، انتہائی قابل قدر اور انتہائی محنتی دوست، استاد، بھائی یونس صیب ہیں۔ ان سے میرا پہلا تعارف بی سی ایس کی کلاسز شروع ہونے سے پہلے ہوا۔ کیسے ہوا، اس کا مختصر ذکر دوبارہ کر دیتا ہوں۔ بی سی ایس میں میرے پیارے دوست زاہد اقبال نے میرے ساتھ داخلہ لیا۔ ساتھ کیا داخلہ لیا، میرے ہی کہنے پر داخلہ لیا۔ کمپیوٹر کی الف بے سے ہم دونوں ہی واقف تھے اور یہ الف بے محض الف بے ہی تھی۔ میتھ سے ہم دونوں کی پیدائشی نفرت بھی ہمیں ایک دوسرے کے قریب لائی تھی۔ زاہد کا خیال تھا کہ بی سی ایس میں ہی ہے کمپیوٹر یا میتھ، کیوں نہ کمپیوٹر کی بنیاد اور ریاضی کی ابتدا کلاسز شروع ہونے سے قبل ہی کر دی جائے۔ ریاضی کا ذکر بعد میں سہی، پہلے کمپیوٹر کا ذکر۔ زاہد نے بتایا کہ اس کے ایک جاننے والے ہیں طیب شاہ صاحب، انہوں نے کمپیوٹر ٹیچر ریفر کیا ہے۔ ہم دونوں ہی بھاگم بھاگ روانہ ہوئے۔ پتہ چلا کہ وہ یونس صاحب ہیں اور گدائی میں رہتے ہیں۔ گدائی ڈیرہ غازی خان کے جنوب مغرب میں الگ موضع تھا جو اب شہر کا حصہ بن چکا ہے۔ گدائی ...
-+Nine Man-Eaters And One Rogue گملا پور کا آدم خور تیندوا
744 days ago
گملا پور کا آدم خور تیندوا عام استوائی جنگلات میں تیندوے کا وجود عام ہے جبکہ شیر صرف ہندوستان کے جنگلات تک محدود ہے۔ شیر کی ہندوستان آمد زیادہ پرانی نہیں۔ تاہم تاریخی اعتبار سے تیندوے اور چیتے کی موجودگی ہندوستان میں بہت پرانی ہے۔  اپنی چھوٹی جسامت، کم طاقت اور انسان سے فطری خوف کے باعث تیندوے کو شیر سے کم تر درجے کا درندہ سمجھا جاتا ہے۔ شیر کے شکاری بھی اکثر انہی وجوہات کی بنا پر تیندوے کا ذکر قدرے حقارت سے کرتے ہیں۔ حتٰی کہ اگر تیندوے کو مجبور کیا جائے تو یہ محض کاٹنے، بھنبھوڑنے اور پنجے مارنے تک ہی محدود رہتا ہے۔ جبکہ شیر کے حملے کی داستان سنانے کے لئے چند ہی لوگ زندہ بچے ہیں۔  تاہم یہ عمومی رائے اس وقت تک توجہ کے قابل رہتی ہے جب تیندوا آدم خور نہ ہو۔ آدم خور بننے کے بعد تیندوا ایک بالکل ہی مختلف جانور بن جاتا ہے اگرچہ تیندوے کی آدم خوری اتنی عام بات نہیں ہے۔ آدم خور بننے کے بعد تیندوا ایک ایسی ہلاکت خیز مشین بن جاتا ہے جس کا مقصد صرف اور صرف نسل انسانی کی تباہی و بربادی رہ جاتا ہے۔ اس کی پھیلائی ہوئی تباہ کاری کسی بھی طرح آدم خور شیر ...
-+Nine Man-Eaters And One Rogue سیگور کا آدم خور
744 days ago
سیگور کا آدم خور وادئ سیگور شمال مشرقی پہاڑی سلسلے کے دامن میں واقع ہے۔ یہ پہاڑ نیلگری کے نام سے جانے جاتے ہیں۔ ان پہاڑی سلسلوں کی بلندی پر "اوکتامند" کا مشہور صحت افزا مقام واقع ہے۔ اس سلسلے کی اوسط اونچائی 7500 فٹ سے بلند ہے۔ پورے ہندوستان کے طول و عرض کے لوگوں کے لئے یہ پرکشش تفریحی مقام ہے اور اسے بلا شبہ پہاڑی صحت افزا مقامات کی ملکہ بھی کہا جا سکتا ہے۔ "اوکتا مند" کی اپنی بے پناہ خوبصورتی ہے۔ اس کے علاوہ یہاں کی آب و ہوا ہر قسم کے برطانوی پھولوں کی بے مثال افزائش گاہ ہے۔ یہاں پھیلی ہوئی سفیدے، فر اور پائن کے درختوں کی خوشبوئیں مست کر دیتی ہیں۔ اس کے علاوہ نسبتاً خنک موسم میدانی علاقوں سے آنے والے سیاحوں کی اس طرح سواگت کرتا ہے کہ انہیں یہ زندگی بھر یاد رہتا ہے۔ "اوکتا مند" سے نکلنے والی بارہ میل لمبی سڑک جو کہ "گھاٹ روڈ" کے نام سے جانی جاتی ہے، ہموار ڈھلوانوں سے گزرتی ہوئی اس علاقے کو جاتی ہے جو کبھی لومڑیوں کے شکار کے لئے مشہور تھا۔ بے تحاشہ شکار کے باعث لومڑیوں کی تعداد نہ ہونے ...
-+Nine Man-Eaters And One Rogue تگراٹھی کے شیر
744 days ago
تگراٹھی کے شیر   اگر میسور کی ریاست میں شموگا کے ضلع کی مغربی سرحد کی طرف سفر کریں تو بنگلور اور اس کے گرد و نواح کی نسبت یہاں کے مناظر اچانک ہی بدل جاتے ہیں۔ یہاں آپ ہر طرف سے سدا بہار جنگلات میں گھر جاتے ہیں جو برساتی نالوں سے سیراب ہوتے ہیں۔ یاں بارش کی سالانہ اوسط 120 انچ سے زیادہ ہے۔ شموگا اور اس کے مغرب میں سالانہ بارش 250 انچ سے بھی زیادہ ہوتی ہے۔ اگمبے اور اس کے مغرب میں چیل کے بلند و بالا درخت ہیں جن کی چوٹیاں آسمان کو چھوتی نظر آتی ہیں۔ درختوں پر کائی اور فرن وغیرہ عام ملتے ہیں۔ سبزے کی یہاں اس خطے میں بہتات ہے۔ یہاں کانٹے دار جنگلات نہیں پائے جاتے۔ ہر ممکن جگہ پر سبزہ اور گھاس اگی ہوتی ہے۔ جھینگر اور مینڈک کے سوا کسی جانور کی آواز سنائی دینا محال ہے۔ درختوں کی نچلی شاخوں سے لٹکی ہوئی جونکیں عام ہیں۔ کسی بھی جاندار کے قریب سے گزرنے پر یہ اس سے چمٹ جاتی ہیں۔ کپڑوں کے اندر بھی گھس جاتی ہیں اور خون چوسنا شروع کر دیتی ہیں۔ آپ کو ان کی موجودگی کا علم تک نہیں ہوگا کہ ان کے کاٹنے سے درد نہیں ہوتا۔ نظر پڑنے پر یا رستے ہوئے خون کے ان کی کارگزاری کا پتہ چل سکتا ہے۔ ...
© 2009 MicrosoftMicrosoft